Fatwa: # 43873
Category: Beliefs and Practices (Aq...
Country: African Country
Date: 5th December 2019

Title

Can we consider Lobola to be Mahr?

Question

Can we consider Lobola to be Mahr?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Lobola is an African custom by which a bridegroom's family makes a payment in cattle or cash to the bride's family shortly before the marriage.[1]

In principle, Mahr is a stipulated amount of money or wealth given by the bridegroom or a person on his behalf to the bride due to Nikah. Mahr is the sole right of the wife and she is at liberty to use this money or wealth as she deems fit whenever and wherever she so desires. [2]

In the enquired scenario, lobola cannot be considered as Mahr due to it being given to the bride’s family and not to the bride herself. However, if bridegroom or a person on his behalf gives a portion of lobola to the bride as Mahr then it will be permissible.

Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

_____


[1] Lobola.

[2] البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/ 188)

 أن في المهر حقوقا ثلاثة : أحدهما حق الشرع وهو أن لا يكون أقل من عشرة دراهم أو ما يساويها .

والثاني حق الأولياء وهو أن لا يكون أقل من مهر المثل .

والثالث حق المرأة وهو كونه ملكا لها ، ثم حق الشرع ، والأولياء مراعى وقت الثبوت فقط فلا حق لهما حالة البقاء .


العناية شرح الهداية (3/ 316)

[باب المهر]

لما ذكر ركن النكاح وشرطه شرع في بيان المهر لأنه حكمه، فإن مهر المثل يجب بالعقد فكان حكما له، والمهر هو المال يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة منافع البضع، إما بالتسمية أو بالعقد.

 

فتح القدير (7/ 102)

ثم المهر واجب شرعا إبانة لشرف المحل فلا يحتاج إلى ذكره لصحة النكاح ، وكذا إذا تزوجها بشرط أن لا مهر لها لما بينا

 

کتاب المسائل جلد 4  صفحه 296

بغیر مہر کے نکاح کرلیا
اگر کسی شخص نے مہر کے بغیر نکاح کیا ، یا یہ طے کرکے نکاح کیا کہ مہر کچھ نہ ہوگا ، تو ایسی صورت میں نکاح تو منعقد ہوجائے گا ؛ لیکن شوہر پر عورت کا مہر مثل واجب ہوگا ( بشرطیکہ رخصتی ہوجائے یا رخصتی سے قبل شوہر کا انتقال ہوجائے ، اور اگر رخصتی سے قبل طلاق کی نوبت آجائے تو ایسی صورت میں متعہ واجب ہوتا ہے )
وإن تزوجہا ولم یسم لہا مہرًا أو تزوجہا علیٰ أن لا مہر لہا ، فلہ مہر مثلہا إن دخل بہا أو مات عنہا ۔ ( الہدایۃ ۲ ؍ ۳۴۶ ، فتح القدیر ۳ ؍ ۳۱۲ بیروت ، ۳ ؍ ۳۲۴ زکریا ، البنایۃ ۵ ؍ ۱۳۰ ، الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۳۰۴ )
وکذا یجب مہر المثل فیما إذا لم یسم مہرًا ( الدر المختار ) أي لم یسمہ تسمیۃ صحیحۃ أو سکت عنہ ۔ ( الدر المختار مع الشامي ۴ ؍ ۲۴۲ زکریا )
وإذا تزوجہا علیٰ أن لا مہر لہا صح النکاح ، ووجب لہا مہر المثل ۔ وفي المضمرات : إن دخل بہا أو مات عنہا زوجہا ۔ ( الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴ ؍ ۱۶۰ رقم : ۵۸۳۶ زکریا )

 

نجم الفتاوی جلد 5  صفحه 205

سؤال

مفتی صاحب ! گزشتہ سال میں تبلیغ کے سلسلے میں چار ماہ کیلئے گیا۔ ایک جگہ ہماری تشکیل ہوئی تو مسجد کے امیر صاحب کے بیٹے کی شادی ہورہی تھی۔ انہوں نے ہم کو بھی دعوت دی اور دورانِ دعوت ہم کو وہاں کے رواج کے بارے میں پتہ چلا کہ وہاں یہ رواج ہے کہ لڑکا لڑکی کو جو مہر دیتا ہے تو لڑکی کا جو بھی ولی ہوتاہے وہ اس مہر میں سے لڑکی کیلئے زیورات وغیرہ بنواتا ہے۔ اسی طرح بعض مرتبہ بعض اولیاء یہ بھی کرتے ہیں کہ لڑکی کے مہر میں سے لڑکے کیلئے انگوٹھی یا گھڑی وغیرہ بنواتے ہیں اور لڑکے کے گھر والوں کیلئے بھی اسی مہر میں سے کپڑے وغیرہ بنواتے ہیں اور لڑکی کی اگرچہ صراحتاً تو اجازت نہیں ہوتی مگر چونکہ وہاں کا رواج ہے تو دلالۃً گویا کہ لڑکی بھی راضی ہے کیونکہ لڑکی اپنے بڑوں کے رواج کے آگے کچھ نہیں بولتی تو اب میرے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا شریعت میں یہ طریقہ کہ لڑکی کے مہر سے لڑکے اور ان کے گھر والوں کو چیزیں دینا جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر مشکور وممنون فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب

مہر کے متعلق اصل حکم یہ ہے کہ مہر کی مستحق لڑکی ہوگی، اولیاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ تاہم اگر بالغہ لڑکی ولی کو مہر پر قبضہ کرنے کی اجازت دیدے تو ولی کیلئے قبضہ کرنا درست ہے اور اسی طرح اگر لڑکی ولی کو مہر میںتصرف کرنے کی اجازت دیدے یا ولی کے تصرف کرنے پر دل سے راضی ہو تو ولی کیلئے اس طرح کا تصرف کرنا درست ہے اور اگر لڑکی نے تصرف کی اجازت نہیں دی اور ولی کے اس طرح کے تصرف کو دل سے قبول نہیں کرتی تو ولی کیلئے لڑکی کے مہر میں کسی قسم کا کوئی تصرف کرنا درست نہ ہوگا۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی آدمی کیلئے حلال نہیں کہ دوسرے کے مال میں بغیر اُس کی اجازت اور دلی رضامندی کے کسی قسم کا تصرف کرے لہٰذا صورت مسئولہ میں لڑکی چونکہ رواج اور بڑوں کی وجہ سے خاموش ہے لڑکی کی اجازت اور رضامندی دل سے نہیں پائی جارہی اس لئے ولی کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر کوئی لڑکی بالکل دل سے راضی ہو کر مہر میں تصرف کی اجازت دےدے تو یہ تصرف جائز ہوگا۔

لمافی القرآن الکریم (النساء:۴): وَآتُواالنِّسَاءَصَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً۔

وفی احکام القرآن للجصاص (۵۸/۲):قال قتادة في هذه الآية ما طابت به نفسها من غيره كره فهو حلال وقال علقمة لامرأته أطعمينى من الهنيء والمريء فتضمنت الآية معاني منها أن المهر لها وهي المستحقة له لا حق للولي فيه ومنها أن على الزوج أن يعطيها بطيبة من نفسه ومنها جواز هبتها المهر للزوج والإباحة للزوج في أخذه بقوله تعالى فَكُلُوهُ هَنِیْئاً مَرِيْئاً۔

وفی مشکوۃ المصابیح(ص۲۵۵): وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه ؓ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه " . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى ۔

وفی الشامیۃ (۱۴۱/۳): وولاية قبض المهر له بحكم الأبوة لا باعتبار أنه عاقد ولذا لا يملك قبضه بعد بلوغها وإذا نهته بخلاف البيع وتمامه في الفتح ۔

(۵۷۷) مہر کے لئے مال متقوم(جو شرعاًمال ہو) ہونا ضروری ہے

DISCLAIMER - AskImam.org questions
AskImam.org answers issues pertaining to Shar'ah. Thereafter, these questions and answers are placed for public view on www.askimam.org for educational purposes. However, many of these answers are unique to a particular scenario and cannot be taken as a basis to establish a ruling in another situation or another environment. Askimam.org bears no responsibility with regards to these questions being used out of their intended context.
  • The Shar's ruling herein given is based specifically on the question posed and should be read in conjunction with the question.
  • AskImam.org bears no responsibility to any party who may or may not act on this answer and is being hereby exempted from loss or damage howsoever caused.
  • This answer may not be used as evidence in any Court of Law without prior written consent of AskImam.org.
  • Any or all links provided in our emails, answers and articles are restricted to the specific material being cited. Such referencing should not be taken as an endorsement of other contents of that website.
The Messenger of Allah said, "When Allah wishes good for someone, He bestows upon him the understanding of Deen."
[Al-Bukhari and Muslim]